باہری زندگی مسجد کے اندر کی زندگی سے مختلف کیوں؟
ایمان والے کی زندگی میں مساجد کا بڑا دخل ہے۔ یہی وہ جگہ ہوتی ہے جہاں انسان اپنے خالق کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے اور اپنے راز و نیاز کو خالق کائنات کے سامنے افشاں کرتا ہے۔ مساجد ہی وہ جگہ ہوتی ہے جہاں چھوٹا -بڑا، امیر -غریب، کالا -گورا، پڑھا لکھا-اَن پڑھ ہر کوئی ایک ہی صف میں کھڑا ہوتا ہے،اسی کو شاعر نے کہا ہے ؎
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و اَیاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
الغرض یہ کہ مساجد ہی انسان کے انسان بننے کی جگہیں ہوتی ہیں،جیسا عمل اور جیسے معاملات انسان کے مسجد میں ہوتے ہیں وہی اگر اس کی مسجد سے باہر کی زندگی میں ہیں تب تو حقیقی معنوں میں وہ عبادت ہے اسی لئے کہا گیا کہ”مسجد میں ادا کئے جانے والے معاملات کا اثر مسجد کے باہر کی زندگی میں نظر نہ آئے تو یہ عبادت نہیں عادت ہوتی ہے“۔
اب ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کا محاسبہ کرے کہیں اُس کی مسجد کی زندگی باہر کی زندگی سے مختلف تو نہیں۔ اگر ہے تو پھر اصلاح کی ضرورت ہے۔ جب ہم مسجد میں رہتے ہیں تو ہمارا لہجہ الگ ہوتا ہے،زبان سنبھلی ہوئی ہوتی ہے، مسجد میں جھوٹ بولنے سے پرہیز کرتے ہیں، کسی کے ساتھ بدکلامی سے حتی الامکان بچتے ہیں اور سب سے بڑی بات کہ ہم تمام لوگ باعتبار امت ایک ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں پھر آخر کیا وجہ ہے کہ مسجد کے باہر آتے ہی ہمارا لب و لہجہ بدل جاتا ہے۔
جیسے ہی ہم مسجد سے باہر آتے ہیں گالی گلوچ شروع ہو جاتی ہے۔ہر ایک مختلف جہت اختیار کر لیتا ہے،قوم کے لئے اتحاد کی بات کی جائے تب بھی ہر ایک مختلف ہی نظر آتا ہے۔ آخر کیوں مسجد کا اتحاد باہر نہیں آتا؟آخر کیوں ہمارا رویہ مسجد کے باہر بدل جاتا ہے؟ اس پر ہم سب کو غور کرنا چاہئے،نیز اپنی اصلاح کی فکر کرنا چاہئے اور کوشش کرنا چاہئے کہ مسجد کے اندر کی زندگی اور باہری زندگی میں یکسانیت ہو اسی میں ہماری فلاح ہے۔
اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی دھیان رکھنا ہے کہ ہم خیرات زکوۃ بھی رمضان میں ہی کیوں نکالتے ہیں؟