*نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوں ٭ تمہاری داستاں بھی نہ رہے گی داستانوں میں*
منوواد اور پونجی واد تمام برائیوں کی جڑ،اُسے ہر جگہ سے اُکھاڑ پھینکنے کی ضرورت:ایم.ڈبلیو.انصاری۔آئی پی ایس (ریٹائرڈ.ڈ.جی)
آج پورے ملک پرمنو وادی اور پونجی وادی طاقتوں کے قبضے کی وجہ سے مقامی لوگوں کی حالت بد سے بدتر اور انتہائی قابل رحم ہو چکی ہے۔اس لیے اس بوسیدہ منو وادی پونجی وادی نظام کو ختم کئے بغیر بھارت کے مقامی لوگوں کی ترقی ممکن نہیں ہے۔منو وادی -پونجی وادی اور سرمایہ دارانہ نظام کی جڑیں بہت مضبوط ہیں کیونکہ یہ بھارت کی قدیم استحصالی فکر ہے جس نے ہر دور میں غریبوں اور پسماندہ لوگوں کا زبردست استحصال کیا ہے۔ آزادی کے بعد بھی یہ فکر سماج میں بڑھتی ہی رہی ہے بلکہ اس نے اپنی جڑیں سماج کے ہر طبقے میں مضبوط کر لی ہیں اور ہر سیاسی پارٹی اور سماجی تنظیموں میں اس منووادی اور پونجی وادی فکر کے حاملین نے شامل ہو کر پسماندہ اور غریبوں کا استحصال کیا ہے۔
پسماندہ کو پسماندہ ہی رہنے دینے کے لیے اس فکر کے حاملین نے اپنا پورا زور لگایا ہے۔ منووادی اور پونجی وادی عناصر سبھی جگہ، سبھی دفاتر، سبھی سیاسی پارٹیوں میں پائے جاتے ہیں چاہے وہ کانگریس (Congress) ہو، بی ایس پی(BSP)،آر جے ڈی (RJD) ہو،بی جے پی (BJP) ہو،عآپ (AAP) ہو، ٹی ایم سی(TMC) ہو، جے ڈی یو(JDU)،سی پی آئی (CPI)ہوغرض یہ کہ کوئی بھی پارٹی ہو ہر چھوٹی بڑی پارٹی میں منووادی اور پونجی وادی عناصر ضرور پائے جاتے ہیں۔
یہ بات ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ بی جے پی (B.J.P) خالص منووادی -پونجی وادی پارٹی ہے اور باقی دیگر پارٹیاں اس کی بی (B) ٹیم ہیں۔ اسلئے بی جے پی اور آر ایس ایس سے ایس سی-ایس ٹی،دلت اور اُو بی سی کو کوئی امید نہیں رکھنا چاہئے۔ یہ بات پورے بھارت میں جگ ظاہر ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ الگ الگ خیالات، نظریات، وِچاردھارا (Ideology) کی پارٹیوں اور تنظیموں میں ہونے کے باوجود سبھی منووادی پونجی وادی عناصر چاہے وہ نیتا ہوں، اُستاد ہوں، بیروکیٹس ہوں، سماجی کارکن ہوں کوئی بھی ہو اپنے بنیادی خیالات (مول وِچاردھارا) پر قائم رہتے ہیں اور اس کے فروغ و حفاظت کے لئے جم کر محنت بھی کرتے ہیں پھر چاہے وہ ہندو ہو یا مسلم ہو ااس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ وہ اپنے بنیادی مقاصد پر ہی توجہ دیتے ہیں۔
اس نظریے اور آئیڈولوجی کا اثر سب سے زیادہ غریب، دبے کچلے اور نچلے طبقے پر ہوتا ہے اور یہ طبقات ہی سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ منووادی پونجی وادی عناصر کا تعلق ہندو سے ہو یا مسلمان سے اس کا خمیازہ اور نقصان سب سے زیادہ دلت مسلم، اُو بی سی مسلم، ایس سی -ایس ٹی اور ہر طرح سے پچھڑے ہوئے لوگوں کو ہوتا ہے۔
دلت مسلم، او بی سی مسلم کو اتحاد و اتفاق کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک ساتھ مل کر تعلیم، تجارت، روزگار، روزی روٹی اور اپنے تحفظ کے لئے ایک دوسرے کا تعاون کریں اور ایک ساتھ ایک پلیٹ فارم پر آکر سماجی اور سیاسی شعور کا مظاہرہ کریں اور اپنی لیڈرشپ تیار کریں۔آنے والے مختلف انتخابات میں اگر سیاسی پارٹیاں آبادی کے تناسب سے ٹکٹ نہیں دیتی ہیں تو ان کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے اپنا اپنا امیدوار انتخابات میں کھڑا کرنا چاہئے۔
پسماندہ برادری کو اپنے تمام مجاہدین آزادی جن کو کی تاریخ کے صفحات میں صحیح مقام نہیں مل سکا ہے جیسے مجنوں شاہ فقیر، عتیق الرحمان منصوری، بطخ میان انصاری، غلام سرور وغیرہ ان تمام کو صحیح مقام و مرتبہ دلانے کے لئے جدوجہد کرنا چاہئے اور ان عظیم شخصیات کے یوم پیدائش و یوم وفات پر ہر سال انہیں یاد کیا جانا چاہئے۔
پسماندہ طبقات کو آپس میں ذات پات، اونچ نیچ، ذات- برادری سے باہر نکل کر آپس میں روزی روٹی، بیٹی کا رشتہ بنانا ہوگا،نیز آنے والے مختلف انتخابات کے لئے پسماندہ طبقات کا ایجنڈا کامن بھی ہونا چاہئے اور اپنے ضروری مسائل کو ان انتخابات میں سامنے لاکر ان پر عمل درآمد کرانے کی بھرپور کوشش کرنا چاہئے۔
ایجنڈے میں یہ بات بھی شامل ہو کہ آئین آرڈر 1950 کے پیرا 3 کے تحت مسلم اور عیسائی SCs کے خلاف غیر آئینی امتیازی سلوک کا خاتمہ کیا جائے۔اس تجویز کا مطالبہ لالو پرساد یادو، ملائم سنگھ یادو، سی ایس ریڈی، محترمہ مایاوتی وغیرہ بھی کر چکی ہیں۔ نیز رنگناتھ مشرا کمیشن، قومی اقلیتی کمیشن اور نیشنل کمیشن فار ایس سی نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی۔
اس کے علاوہ 27 فیصد او بی سی ریزرویشن کی ذیلی تقسیم، انتہائی پسماندہ طبقات کو تقریباً 18-20 فیصدریزرویشن فراہم کرتی ہے، تاکہ EBCs کو ان کی آبادی کے تناسب سے منصفانہ حصہ مل سکے۔اس پر بھی عمل کیا جائے۔نیز قومی ذاتی مردم شماری کرائی جائے۔ سیاسی، معاشی اور تعلیمی اداروں میں پسماندہ برادریوں سمیت SCs-STs اور OBCs کے ساتھ ان کی آبادی میں حصہ داری کی بنیاد پر پاور شیئرنگ کا بندوبست ہو۔
ودھان منڈل میں خواتین کے لیے 33% ریزرویشن کے تحت او بی سی خواتین کے لیے 27% کا ذیلی کوٹہ مختص کیا جائے۔ او بی سی کے لیے ترقیاتی بجٹ کے 27% کا خصوصی جزو منصوبہ ہو۔ نوٹیفائیڈ زرعی اجناس بالخصوص گندم، چاول، دالوں، تیل کے بیجوں اور موٹے اناج کے لیے کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت کی قانونی ضمانت ملے، ایم ایس پی کی گارنٹی ملے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق مزدوروں کو اجرت کی قانونی ضمانت ملے۔چپراسیوں، ڈرائیوروں، وارڈ بوائز، نرسوں، پولیس اور پیرا ملٹری فورسز وغیرہ کے یونیفارم کے لیے ہینڈ لوم - پاور لوم اور کھادی کپڑوں کی خریداری اور میڈیکل اور دیگر محکموں کے لیے تولیے، بیڈ شیٹس وغیرہ کی خرید کا انتظام ہو۔اس کے علاوہ ۷۲سے لے کر ۳۳ فیصددلت مسلم /او بی سی مسلم خواتین کا حصہ مختص کیا جانا چاہئے۔
دلت مسلم، او بی سی مسلم کو اپنے حق کے لئے آواز اُٹھانا چاہئے،قانونی لڑائی بھی لڑنا چاہئے، ریزرویشن کے لئے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہئے،ایک پٹیشن دائر کرنا ہوگی جس میں یہ مطالبہ کیا جائے کہ تمام سیاسی پارٹیاں آبادی کے تناسب سے ٹکٹ تقسیم کریں اس کے لئے حکم نامہ جاری کیا جائے جو ملک کی سالمیت اور گنگا جمنی تہذیب کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ تمام طرح کے موجودہ مدعے بھی ایجنڈے میں شامل کئے جائیں جن کا تعلق براہ راست پسماندہ طبقات سے ہو، ایس سی- ایس ٹی سے ہو، دلت اور او بی سی سے ہو۔ اپنے حقوق کی لڑائی کے لئے متحد ہو کر کامن ایجنڈا تیار کرکے بھارت کے آئین کو بچاتے ہوئے، آئین کے تحت قانونی طور پر لڑائی لڑنا ہوگی۔