امام و مؤذن مسجد کے خادم یا نوکر نہیں، دین کے امین اور مذہبی رہنما ہیں: محمد وزیر انصاری
مسجد محض سجدے کی جگہ نہیں، بلکہ ایمان کی تربیت گاہ، اخلاق کی درسگاہ اور معاشرتی اصلاح کا مرکز ہے۔ مسجد کی روح امام اور مؤذن سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگر یہی روح معاشی دباؤ، بے قدری اور عدمِ تحفظ کا شکار ہو جائے تو مسجد صرف ایک عمارت بن کر رہ جاتی ہے۔
آج ایک عرصے سے یہ سوال ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے کہ کیا ہم نے واقعی اپنے امام اور مؤذن صاحبان کی عزت، وقار اور ضرورتوں کو سمجھا ہے؟ کیا ہم نے انہیں وہ مقام دیا ہے جس کے وہ شرعاً، اخلاقاً اور سماجاً حقدار ہیں؟
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ امام اور مؤذن کسی مسجد کے ملازم اور نوکر نہیں بلکہ قوم کے مذہبی رہنمااور رہبر ہوتے ہیں۔ ان کی بے قدری دراصل دین کی بے قدری ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی طرف محترم ایم۔ ڈبلیو۔ انصاری صاحب آئی پی ایس (ریٹائرڈ) اور ان کی سوسائٹی پچھلے دو سالوں سے مسلسل توجہ دلا رہی ہے۔ انہوں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ امام و مؤذن کو ہر طرح سے مضبوط بنایا جائے تاکہ وہ معاشی فکر سے آزاد ہو کر دین کے کام کے لیے خود کو وقف کر سکیں۔
بدقسمتی سے آج بھی اکثر مساجد میں امام و مؤذن کی تنخواہیں اس مہنگائی کے دور میں ناکافی ہی نہیں بلکہ انتہائی کم ہے۔ ایک ایسا امام جو کرایہ، بچوں کی تعلیم، علاج اور گھر کے اخراجات کی فکر میں مبتلا ہو، وہ قوم کی فکری و اخلاقی رہنمائی کس طرح پوری یکسوئی سے کر سکتا ہے؟ اس لیے مسجد کمیٹیوں اور تمام نمازیوں کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ امام و مؤذن کی تنخواہیں مہنگائی اور بنیادی اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے معقول طور پر طے کی جائیں۔
مسجد کو ہمیں صرف نماز تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ نماز کے بعد کچھ وقت ذکر، تعلیم، مسلمانوں کے تمام مسائل پر غور و فکر اور ان کے حل، زمانے کے چیلنجز سے مقابلہ کرنے کے لئے لائحہ عمل بنانے وغیرہ میں لگانا چاہئے۔ محلے میں کون بیمار ہے، کون بے روزگار ہے، کون فاقہ کشی کا شکار ہے—ان تمام باتوں سے باخبر ہونا صرف امام کی نہیں بلکہ ہر نمازی کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسجد کے ذریعے یہ اجتماعی خبرگیری شروع ہو جائے تو نہ صرف مسائل کم ہوں گے بلکہ دل بھی جڑیں گے۔
محترم ایم۔ ڈبلیو۔ انصاری صاحب کی یہ فکر نہایت اہم ہے کہ مسجد اپنے وسائل سے اتنی مضبوط ہو کہ بجلی، پانی، صفائی، وضو خانوں اور بیت الخلا کی دیکھ بھال، پنکھے، کولر اور امام و مؤذن کی تنخواہوں کے لیے ہمیں کسی دوسرے ذریعے کی طرف دیکھنا نہ پڑے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہر نمازی مسجد کو اپنی ذمہ داری سمجھے۔
فجر کی نماز میں بچوں کی حاضری اور نوجوانوں کی فجر اور عصر کی حاضری محض عبادت نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کی بنیاد ہے۔ بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے تحائف، کتابیں یا تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے دل میں مسجد کے لیے محبت پیدا ہو۔ یہی بچے کل کے امام، معلم اور ذمہ دار شہری بنیں گے۔
اسی طرح ہر محلے کی مسجد میں مکتب قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے، جہاں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ انگلش، ہندی، سائنس، میتھس اور کیریئر کونسلنگ کا انتظام ہو۔ مسجد کے احاطے میں لائبریری کا ہونا بھی انتہائی ضروری ہے۔ آج کے دور میں دین اور دنیا کی تفریق نقصان دہ ہے۔ مسجد اگر بچوں کو اچھا مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ باخبر اور باصلاحیت انسان بنا دے تو یہی اصل کامیابی ہے۔
نماز کے اوقات کے علاوہ ہماری مساجد خالی رہتی ہیں۔ ان اوقات میں مسجد کوکمیونٹی سروس سینٹر اور علمی مرکز بنایا جا سکتا ہے، جہاں غریبوں کی امداد، قانونی مشورے، سماجی مسائل کا حل اور رفاہی سرگرمیاں انجام دی جائیں۔ مسجد جتنی آباد ہوگی، قوم اتنی ہی مضبوط ہوگی۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہم ہمارے امام و مؤذن صاحبان کو معاشی زبوحالی سے اتنا فارغ کر دیں کہ وہ اپنی علمی صلاحیتوں میں اور اضافہ کرتے چلے جائیں۔ عربی، اردو اور فارسی پر مضبوط گرفت حاصل کریں، نیز انگریزی زبان پر بھی عبور حاصل کرلیں، بچوں کے عقائد کی تعلیم کو ترجیح دیں، اور یہ اہتمام کریں کہ ہر بچہ نماز کے ساتھ ساتھ نمازِ جنازہ اور بنیادی دینی امور بھی سیکھے۔ یہ علم ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے، کیونکہ زندگی اور موت دونوں یقینی ہیں۔
واضح رہے کہ تعاون کو ہمیں صرف روپے پیسے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ اگر کوئی وکیل مفید مشورہ دے دے، کوئی استاد رہنمائی کر دے، یا کوئی تاجر کسی نوجوان کے لیے روزگار کا راستہ ہموار کر دے تو یہ بھی عظیم تعاون ہے۔ اسی اجتماعی تعاون سے قوم کا سماجی اور سیاسی شعور بیدار ہوگا، جو وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
آج کے بدلتے ہوئے دور میں علماے کرام سے بھی عاجزانہ گذارش ہے کہ وہ اپنے کردار اور دائرہئ کار کو محدود نہ رکھیں بلکہ وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے خود کو ملٹی لِنگول بنائیں اور دینی علوم کے ساتھ عصری زبانوں اور جدید تعلیم میں بھی مہارت حاصل کریں۔ صرف حافظ یا عالم ہونا بلاشبہ ایک عظیم سعادت ہے، لیکن اگر اسی کے ساتھ کوئی عالم ڈاکٹر بنے، کوئی وکیل ہو، کوئی انجینئرنگ کے شعبے میں جائے، کوئی منتظم (ایڈمنسٹریٹر) بنے، کوئی پولیس، فوج یا دیگر سرکاری خدمات میں شامل ہو تو یہ نہ صرف قوم بلکہ دین کے لیے بھی غیر معمولی طاقت کا باعث ہوگا۔
ایسے علما جو مختلف زبانوں، مختلف میدانوں اور مختلف اداروں میں موجود ہوں گے، وہ اسلام کی صحیح ترجمانی بھی بہتر انداز میں کر سکیں گے اور سماج میں مسلمانوں کی مؤثر نمائندگی بھی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ علما مساجد اور مدارس تک محدود نہ رہیں بلکہ ہر اس محاذ پر موجود ہوں جہاں فیصلے ہوتے ہیں، پالیسیاں بنتی ہیں اور قوموں کا مستقبل طے کیا جاتا ہے۔
آخر میں، بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ امام اور مؤذن صاحبان کو معاشی فکر سے آزاد کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ معقول تنخواہوں کے ذریعے یا ان کے شایانِ شان ہنر سکھا کر ہمیں اپنے مذہبی رہنماؤں کو مضبوط بنانا ہوگا۔ جب مذہبی رہنما مضبوط ہوں گے تو یقیناً قوم میں مثبت تبدیلی آئے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ جزائے خیر دے محترم ایم ڈبلیو انصاری صاحب اور ان کی ٹیم کو جو ہمیشہ مذہبی رہنماؤں کے لئے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔اس کا بدلہ دنیا و آخرت میں ملے گا ان شاء اللہ۔