معاشی بائیکاٹ اور حلال سرٹیفیکیشن کو ہدف بنانے سے مقامی لوگوں میں بائیکاٹ جیسی تحریکیں جنم لیں گی: ایم. ڈبلیو. انصاری(ریٹائرڈ۔آئی.پی.ایس)
موجودہ وقت میں بھارت کے اندر جو کیفیت دیکھنے کو مل رہی ہے، وہ نہ صرف اجتماعی انصاف کے اصولوں کے منافی ہے بلکہ اس کی قیمت ہماری روایتی ہم آہنگی بھی ادا کر رہی ہے۔ روز بروز ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جن میں معاشی بائیکاٹ، دکانوں پر مذہبی شناخت کی بنیاد پر نام لکھنا، مقدس مقامات کی توہین یا انہدام شامل ہیں۔ یہ سب باتیں محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک خوفناک طرزِ عمل کا سلسلہ نظر آتا ہے اور برسر اقتدار پارٹی یہ سب کچھ اپنی نظروں کے سامنے دیکھ کر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔
یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ ماضی میں ہمارا ملک گنگا جمنی تہذیب/ آپس داری/ بھائی چارے کے نام سے جانا جاتا تھا — ایک ایسی تہذیب جہاں ہندو اور مسلمان مشترکہ ثقافت، لباس، زبان اور تہواروں میں گھلے ملے نظر آتے تھے؛ شاعری، ادب اور عوامی روایات نے ایک مشترکہ تہذیبی جذبے کو پروان چڑھایا تھا۔ یہ گنگا جمنی روایات محض زبانی باتیں نہیں تھیں بلکہ طویل سماجی تاریخ کا حصہ تھیں اور بھارت کا آئین اس کا ضامن ہے اس کی ترجمانی کرتا ہے۔
لیکن موجودہ سیاسی اور سماجی تناظر میں ہم متعدد ایسے واقعات دیکھ رہے ہیں جن سے خوف اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔ مثال کے طور پر گذشتہ چند برسوں میں کئی جگہوں پر مساجد یا مذہبی مقامات کے انہدام یا دعوؤں پر تنازعات کی خبریں آئیں — بعض مقدمات عدالتوں تک گئے اور بعض جگہ مقامی انتظامیہ نے کارروائیاں کیں۔ یہ کارروائیاں اگرچہ بعض اوقات قانونی جواز کے تحت بتائی جاتی ہیں، مگر حقیقت ایسی نہیں ہے۔ جس سے متعلقہ کمیونٹی میں محرومی اور غیر یقینی کا احساس لگاتار بڑھتا جارہا ہے۔
کئی جگہوں پر سامنے آنے والی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رویّے محض الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ ایک منظم رجحان کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ رپورٹوں میں بتایا گیا کہ اُتراکھنڈ میں بہار اور اتر پردیش سے آئے ہوئے کئی افراد کو ”باہر والے“ قرار دے کر ہراساں کیا گیا، جب کہ اندور کے شیتلا ماتا بازار میں مسلم دکانداروں کے ساتھ جو سلوک ہوا اس نے معاشی شناخت پر حملے کی ایک واضح تصویر پیش کی۔ اسی طرح بیف ایکسپورٹ جیسے معاملات کو بہانے بنا کر مسلم تاجروں اور مزدوروں کو ہدف بنانا، روزگار اور معیشت پر براہِ راست حملہ ہے — یہ سب واقعات مل کر ایک ایسی معاشی و سماجی کیفیت پیدا کرتے ہیں جس سے نہ صرف متاثرہ کمیونٹی بلکہ پورا معاشرہ کمزور پڑتا ہے۔
یہ واقعات وقتی جذبات یا معمولی تنازع نہیں، بلکہ جب بارہا دہرائے جائیں تو وہ آئینی انصاف، معاشی مساوات اور شہریت کے بنیادی اصولوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ جب بازاروں میں دکانیں نشانہ بنتی ہیں، مقدس مقامات کی تذلیل کی خبریں آتی ہیں، یا کسی کمیونٹی کے روزگار کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو یہ محض ذاتی نقصان نہیں بلکہ اجتماعی اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔ اس لیے ان واقعات کو منظرِ عام پر لانا، حقائق کی شفاف جانچ اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنا محض اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ ملک کی بقا کے لیے ناگزیر ہے ورنہ ہم اپنے گنگا جمنی اقدار اور باہم رہنے کے روایتی بندھن کو مستقل طور پر کھو بیٹھیں گے۔
اسی طرح مقدس درگاہوں، مزاروں، امام باڑوں اور قبرستانوں پر کارروائی یا ان کی بے حرمتی کی بعض رپورٹیں بھی سامنے آئیں جن میں مقامی سطح پر تشدد یا احتجاجی واقعات شامل رہے۔ یہ واقعات امن کے تقاضوں کے منافی ہیں۔ ایسے واقعات کی خبریں مختلف حلقوں میں رپورٹ کی گئی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ پچھلے چند برسوں میں نفرتی عناصر بھارت کی ایکتا و اتحاد پر بھاری پڑے ہیں جس میں سرکار کی طرف سے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔
ابھی حال ہی میں ایک اور تشویشناک رجحان ''معاشی بائیکاٹ'' اور ''حلال'' سرٹیفیکیشن کو ہدف بنانا سامنے آیا ہے۔ بعض سیاسی بیانات میں حلال سرٹیفکیٹ یا مسلم کاروبار کو بطور خطرہ پیش کیا گیا، اور اس کے نتیجے میں صارفین یا مقامی کمیونٹیز میں بائیکاٹ جیسی تحریکیں جنم لیتی ہیں۔ جب معاشی دباؤ اور کاروباری شناخت پر حملے ہوتے ہیں تو خاندانوں کے روزگار، بچوں کی تعلیم اور کمیونٹی کی خود کفالت متاثر ہوتی ہے۔ معاشی بائیکاٹ دراصل اجتماعی سزا کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور آئینی انصاف کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ ایک مخصوص کمیونٹی کے خلاف ہو رہا ہے جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ سب ایک مخصوص کمیونٹی کو سوئم/ چہارم درجہ کا باشندہ بنانے کی کوششیں ہیں۔
حلال سرٹیفکیٹ سے کئی مخصوص نیتا کو اتنی ہی تکلیف ہے تو سرکار سے مطالبہ کریں کہ تمام بیف ایکسپورٹ کو جو حلال سرٹیفیکیٹ یہاں سے دئیے گئے ہیں جس کی بنا پر کروڑوں کا بیف ایکسپورٹ ہو رہا ہے انہیں حلال سرٹیفکیٹ دینا بند کریں اور اسی طرح تمام مصنوعات پر بھی جس میں اس طرح کے سرٹیفکیٹ دئیے گئے ہیں انہیں بند کرائیں جائیں۔
یہ سب حالات کہیں نہ کہیں یاد دلاتے ہیں کہ ہمارے سماجی ڈھانچے کتنے نازک ہیں۔ جب بازار میں کسی مخصوص کمیونٹی کو الگ تھلگ کرنے کی ولایت پیدا ہو جائے، جب مذہبی رہنماؤں یا عام شہریوں کو عبادت یا مذہبی رسم ادا کرنے پر غیر ضروری رکاوٹیں درپیش ہوں، تو اس سے نفرت کی فضا جنم لیتی ہے جو پورے معاشرے کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ ہمارے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کی روزمرہ زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ جینے کی روایات کو بحال رکھنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
ضروری ہے کہ مسجدوں، مندروں، گوردواروں اور دیگر مذہبی اداروں کے رہنما نیز سیکولر رہنما مل کر امن اور رواداری کے لیے مشترکہ بیانات جاری کردیں کہ مذہب کی بنیاد پر نفرت نہ پھیلائی جائے۔ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ کسی بھی ملک کی طاقت اس تمام طبقات کی عزت اور حفاظت میں چھپی ہوتی ہے۔ گنگا جمنی تہذیب ایک یادگار ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ اختلافات کے باوجود ہم مشترکہ انسانیت میں بندھے ہوئے ہیں۔ اگر ہم نے آج ایک دوسرے کے خلاف دیواریں اُونچی کر لیں تو کل ہمیں وہیں سے سخت نقصان اٹھانا پڑے گا۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ حقیقت پر مبنی بحث، قانونی عدالتوں کی مدد اور پرامن عوامی مزاحمت ہی وہ راستے ہیں جن سے ہم دوبارہ ایک مربوط اور منصف معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔ نفرت کے زخم تبھی بھر سکیں گے جب ہم باہم مل کر انصاف، مساوات اور رواداری پر زور دیں گے۔ یہی ہماری بقا کا ضامن ہے۔