Reg No. 04/19/01/18414/16

تعلیم یافتہ نوجوان ہی مضبوط بھارت کی ضمانت ہیں، پھر ان کے مستقبل سے کھلواڑ کیوں؟

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے علم کو اپنی طاقت بنایا، وہ ترقی، عزت اور قیادت کے مقام پر پہنچیں، اور جنہوں نے تعلیم کو نظر انداز کیا، وہ پسماندگی، محتاجی اور محرومی کا شکار ہوئیں۔ کسی بھی ملک کی اصل دولت اس کے قدرتی وسائل نہیں بلکہ اس کے تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور باشعور شہری ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہر مہذب معاشرہ اپنی درسگاہوں، جامعات، لائبریریوں اور تحقیقی اداروں کو اپنی سب سے قیمتی قومی امانت سمجھتا ہے۔
آج ہمارے سامنے یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے کہ کیا ایک مضبوط اور ترقی یافتہ بھارت کا خواب اس وقت پورا ہو سکتا ہے جب تعلیم گاہیں مسلسل مشکلات، تنازعات اور غیر یقینی صورتِ حال کا شکار ہوں؟ گزشتہ دنوں میں مختلف تعلیمی اداروں کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعات اور کارروائیوں نے اس بحث کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی ہو، یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میگھالیہ ہو، الفلاح یونیورسٹی فرید آباد ہو،یا گلوکل یونیورسٹی سہارنپور اور دیگر کئی ادارے ٹارگیٹ کئے گئے۔ ہر معاملے کی اپنی قانونی اور انتظامی نوعیت ہو سکتی ہے، لیکن ہر چیز کے کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں جن کے تحت مناسب کارروائی کی جائے، کچھ جرمانہ عائد کیا جائے، اگر کہیں کوئی بے ضابطگی ہو تو قانون اپنی کارروائی کرے، مگر تعلیم اور طلبہ کے مستقبل کوہمیشہ اولین ترجیح دی جائے۔
موجودہ دور میں حکومت کی اولین ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ملک بھر میں نئی یونیورسٹیاں، کالج اور تحقیقی ادارے قائم کیے جائیں، طلبہ کو معیاری تعلیم، اسکالرشپس اور جدید سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ بھارت علمی، سائنسی اور معاشی میدان میں مزید مضبوط ہو۔مگر افسوس اس کے برعکس حکومت کے ذریعہ بنی بنائی یونیورسٹیاں -کالجز زمیں دوز کی جارہی ہے۔ بعض مواقع پر تعلیمی اداروں کے خلاف ایسی کارروائیاں دیکھنے میں آتی ہیں جن سے ہزاروں طلبہ کا مستقبل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی بھی یونیورسٹی تباہ یا بند ہوتی ہے تو یہ صرف ایک ادارے کا نقصان نہیں بلکہ پورے بھارت کے تعلیمی وقار پر ایک بدنما داغ ہوگا۔
یہ بھی افسوس ناک حقیقت ہے کہ مدارس کے بارے میں بھی مختلف قسم کی غلط فہمیاں اور منفی تصورات پیدا کیے جا رہے ہیں، حالانکہ ملک کے تقریباً 5 فیصد غریب اور نادار بچے انہی مدارس میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یہ ادارے ایسے بچوں کو تعلیم کا موقع فراہم کرتے ہیں جو مالی مجبوریوں کے باعث معیاری تعلیم سے محروم رہ جاتے۔ چند معاملات کی بنیاد پر پورے نظامِ مدارس کو شک کی نگاہ سے دیکھنا نہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے اور نہ ہی قومی مفاد میں۔
تعلیم کا نقصان صرف ایک ادارے کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ پوری قوم کا نقصان ہوتا ہے۔ ایک یونیورسٹی بند ہوتی ہے تو صرف عمارتیں نہیں گرائی جاتی بلکہ ہزاروں خواب، سینکڑوں اساتذہ کی محنت اور آنے والی نسلوں کی امیدیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا راستہ عدالتوں، جیلوں اور تنازعات سے زیادہ اسکولوں، کالجوں، جامعات وغیرہ سے ہی ہموار ہوتا ہے اور آج بھارت کی بہت ہی اہم اور سخت ضرورت تعلیم ہے۔
ہر مذہب نے علم کو مقام اور فوقیت دی ہے اسی طرح مذہب اسلام میں علم کو غیر معمولی مقام عطا کیا گیا ہے۔ قرآن کریم کی پہلی آیت ہی ”اقرأ'' یعنی ''پڑھیے'' سے شروع ہوتی ہے۔ آخری پیغمبر محمد صاحب نے علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض قرار دیا۔
٭ اسلامی تہذیب کی عظمت کی بنیاد بھی سب سے زیادہ قلم، تحقیق، فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات اور تعلیم پر قائم ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے بغداد، قرطبہ، قاہرہ اور دہلی جیسے مراکزِ علم سے پوری دنیا کو روشنی دی۔٭
یہ بات بھی حقیقت ہے کہ جہالت ہر دور میں استحصال کرنے والوں کا سب سے بڑا ہتھیار رہی ہے۔ باشعور انسان سوال کرتا ہے، دلیل مانگتا ہے، آئین کو سمجھتا ہے، اپنے حقوق اور فرائض سے واقف ہوتا ہے اور نفرت و تعصب کا آسان شکار نہیں بنتا۔ اس کے برعکس جہالت انسان کو افواہوں، فرقہ واریت، نفرت اور اندھی تقلید کی طرف لے جاتی ہے۔ اسی لیے علم سے ڈرنے والے ہمیشہ چاہتے ہیں کہ عوام کم سے کم پڑھیں، کم سوچیں اور کم سوال کریں، جبکہ ایک جمہوری اور مضبوط معاشرے کی بنیاد آزاد فکر، معیاری تعلیم پر قائم ہوتی ہے۔
بھارت جیسا عظیم اور متنوع ملک اس وقت حقیقی ترقی کر سکتا ہے جب یہاں ہر بچہ، خواہ وہ کسی بھی مذہب، ذات، زبان یا معاشی طبقے سے تعلق رکھتا ہو، بہترین اور اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکے۔ حکومت، سماجی تنظیموں، تعلیمی اداروں، والدین اور اہلِ خیر سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ تعلیم کو سیاست، نفرت اور تعصب سے بالاتر رکھتے ہوئے قومی ترجیح بنایا جائے۔ نئی یونیورسٹیاں قائم ہوں، پرانے ادارے مضبوط ہوں،تعلیم کو فروغ ملے، اساتذہ کو عزت ملے اور طلبہ کو خوف کے بجائے اعتماد کا ماحول فراہم کیا جائے۔
اس سلسلے میں یہ سوال بھی سنجیدگی سے اٹھایا جانا چاہیے کہ اگر حکومت حقِ تعلیم (RTE) کے تحت بچوں کو ابتدائی اور آٹھویں جماعت تک تعلیم کی ذمہ داری قبول کر سکتی ہے تو اس دائرے کو مزید وسعت دیتے ہوئے کم از کم بارہویں جماعت بلکہ گریجویشن تک تعلیم کو بھی مرحلہ وار سرکاری ذمہ داری بنایا جانا چاہیے۔ موجودہ دور میں صرف ابتدائی تعلیم روزگار، خود کفالت اور باوقار زندگی کے لیے کافی نہیں رہی۔ اعلیٰ تعلیم ہر بچے کا حقیقی سرمایہ ہے اور یہی ملک کی انسانی صلاحیت کو مضبوط بناتی ہے۔ مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ نے بھی حال ہی میں اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت کو بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری بارہویں جماعت ہی نہیں بلکہ گریجویشن تک اٹھانے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ درحقیقت تعلیم پر ہونے والا خرچ کوئی بوجھ نہیں بلکہ ملک کے مستقبل، معیشت اور سماجی استحکام میں سب سے بہترین سرمایہ کاری ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت اس کے ہتھیار نہیں بلکہ اس کے تعلیم یافتہ لوگ ہوتے ہیں۔ مضبوط معیشت، جدید سائنس، بہتر صحت، انصاف، سماجی ہم آہنگی اور قومی سلامتی، سب کی بنیاد علم پر ہی ہوتی ہے۔ اگر ہم واقعی ایک ترقی یافتہ، باوقار اور خود کفیل بھارت چاہتے ہیں تو ہمیں ہر حال میں تعلیم کے چراغ روشن رکھنے ہوں گے۔
آج وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم نفرت کے بجائے کتاب کو، تعصب کے بجائے تحقیق کو، شور کے بجائے شعور کو اور تقسیم کے بجائے تعلیم کو فروغ دیں۔ کیونکہ قومیں تعلیم سے ہی ترقی پاتی ہیں اور مستقبل اُنہی کا ہوتا ہے جو قلم کی طاقت کو پہچانتے ہیں۔

© 2026 Benazeer Ansar Educational & Social Welfare Society All rights reserved.   Powered by: Web Roosters